مثال بدر جو حاصل ہوا کمال مجھے




مثال بدر جو حاصل ہوا کمال مجھے
گھٹا گھٹا کے فلک نے کیا ہلال مجھے
برنگ سبزہ بیگانہ باغ دہر میں تھا
ترے سھاب کرم نے کیا نہال مجھے
یہ الفقیں بھی ہیں دنیا مٰن یاد گار اے مرگ
مرا خیال تجھے اور ترا خیال مجھے
کبھی خوشی سے جو دنیا میں ایک پل گزرا
وہ صدمہ کش ہوں کہ برسوں رہا ملال مجھے
کسی کے سامنے کیوں جا کے ہاتھ پھیلاؤں
مرا کریم تو دیتا ہے بے سوال مجھے
میر انیس




اپنا تبصرہ بھیجیں