مود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہین




مود و بود کو عاقل حباب سمجھے ہین
وہ جاگتے ہیں جو دنیا کو خواب سمجھے ہیں
کبھی برا نہین جانا کسی کو اپنے سوا
ہر ایک ذرے کو ہم آفتاب سمجھے ہیں
عجب نہیں ہے جو شیشوں میں بھر کے لیے جائیں
ان آنسوؤں کو فرشتے گلاب سمجھے ہیں
ارے نہ آئیو دنیائے دوں کے دھوکے مین
سراب ہے یہ جسے موج آب سمجھے ہیں
زمانہ ایک طرح پر کبھی نہیں کہتا
اسی کو اہل جہاں انقلاب کہتے ہیں
انیس مخمل و دیبا سے کیا فقیروں کو
اسی زمین کو ہم فرش خواب سمجھے ہیں
میر انیس




اپنا تبصرہ بھیجیں