ایک سرکش بستی




ایک سرکش بستی
مسخ مسخ روحیں ہیں
پھیکے پھیکے چہرے ہیں
الٹی سیدھی نیت ہے
ٹیڑھی میڑھی باتیں ہیں
روکھا روکھا سبزہ ہے
سوکھے سوکھے پودے ہیں
راکھ راکھ کلیاں ہیں
جھلسے جھلسے پتے ہیں
سرخ سرخ مٹی ہے
کالے کالے رستے ہیں
زرد زرد پتھر ہیں
اجڑی اجڑی گلیوں میں
موٹے موٹے کنکر ہیں
سرکشوں کی بستی میں
سخت سخت منظر ہیں
معین نظامی




اپنا تبصرہ بھیجیں