ایک حجرہ اعتکاف کے سامنے




ایک حجرہ اعتکاف کے سامنے
دو دھیاسنگ مرمر کی اس جالی کے اس پار
وہ بیٹھا کرتا تھا
جس کے نام کا
میرے نام کے اک اک حرف پہ سایا ہے
بابا !
تیرے نام پہ دھیبا ، تیرا بیٹا
اپنا خالی دامن لے کر تیرے در پر آیا ہے
اس کی روکھی سوکھی آنکھوں کے کشکول میں
اپنے اجلے اجلے اشکوں میں سے
اک دو بوندیں بھیک عطا کر
اس کے پھیلے ، میلے ہاتھو کو
اپنے دست کرم میں لے لے
معین نظامی




اپنا تبصرہ بھیجیں