لذت تشکر




روز شب کی گردش میں
پانچ مرتبہ دیکھو
رنگ رنگ پھولوں کو
اونچے اونچے پیڑوں پر
جب ہوا اذانیں دے
جب پرنداڑتے ہیں
صف بہ صف فصاؤں میں
آنسوؤں کی ندی سے
تازہ دم وضو کر کے
سقف ابر کے نیچے
جانماز سبزہ پر
سجدہ ریز ہو جاؤ
تم پہ بھی یہ لازم ہے
جیسے تم سے پہلے کی
امتوں پہ لازم تھا
جس طرف بھی رخ کر لو
اس طرف وہ چہرہ ہے
شہرہ شہرہ قبلہ ہے
آئنوں کا کعبہ ہے
اور کبھی جو ممکن ہو
جتنا ہو سکے تم سے
خون دل کے دانو ں پر
اس کا اسم پڑھ لینا
ذکر میں تفکر ہے
اہل جذب کی خاطر
آیت تشکر ہے
معین نظامی




اپنا تبصرہ بھیجیں