امکان وو جوب




ذرہ ہوتی امکان ہے اور وسعت صحرا ئے وجوب
مرا دل مرا سر تاج قلوب
اسی اک ذرہ بے مایہ کو صحرا جانے
کوئی چاہے اسے عرفاں سمجھے
یا اسے کامی سودا جانے !
معین نظامی




اپنا تبصرہ بھیجیں