شکست




ہمارے لفظ
آغاز مراسم میں تو کچھ معصوم سے لوگو ں کو بے حد اچھے لگتے تھے
نجانے ان میں کیا کیا تھا، بہت مسحور کن تھے وہ
مگر وہ لفظ جھوٹے تھے
انہیں تو قیر کیا ملتی
ہمارے شعر آغاز مراسم مین تو کچھ معصوم سے لوگوں کو بیحدا چھے لگتے
تھے
وہ دل دریا کے موتی تھے، ادب میں غیر معمولی اضافہ تھے
مگر وہ شعر کھوٹے تھے
انہیں تاثیر کیا ملتی
ہمارے خواب
آغاز طراسم مین تو کچھ معصوم سے لوگوں کو بیحد اچھے لگتے تھے
ابدرنگوں کے جادوئی زمانوں کے وہ ضدی نقش کتنے خوبصورت تھے
مگر وہ خواب اندھے تھے
انہیں تعبیر کیا ملتی
یہ انجام مراسم کے مراحل ہیں
شکست لفظ و شعر و کواب کے یہ دل گرفتہ آئنے دل کے مقابل ہیں
معین نظامی




اپنا تبصرہ بھیجیں