نیند ناراض رہی




نیند ناراض رہی
میں نے اک پل کو ترا نام لیا تھا شاید
نیند ناراض رہی رات مری آنکھوں سے
خواب زاروں کا تصور بھی ہوا خواب نما
دل کی ہر تال ہوئی درد کی آہٹ جیسے
سوچ میں کھلنے لگے پھول کئی ماضی کے
تتلیوں جیسے کئی لفظ مجھے یاد آئے
تیری آواز کی خوشبو ، ترے لہجے کی کھنک
تیری آنکھوں کی شرارت ، تیرے ہونٹوں کی مہک
تیرے بولے ہوئے جملوں کی وہ خاموش کسک
دیر تک رات رہی پھر تیری یادوں کی دھنک
کتنے آنسو مرے لفظوں میں ڈھلے یاد نہیں
کب تلک یاد کے یہ دیپ جلے یاد نہیں
میں نے اک پل کو ترا نام لیا تھا شاید
نیند ناراض رہی رات میری آنکھوں سے
عاطف سعیدؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں