قیام میں بھی کسی راہ پر روانہ تھا




قیام میں بھی کسی راہ پر روانہ تھا
مرا مزاج ازل سے مسافرانہ تھا
پڑا تھا اس کے بھی رخ پر نقاب ناموجود
مری بھی آنکھ پہ اک دست غائنانہ تھا
ہم اپنی روح ترے جسم ہی میں چھوڑ آئے
تجھے گلے سے لگانا تو اک بہانہ تھا
میں اس کو دیکھتا رہتا تھا اس کی آنکھوں سے
خیال و خواب کا موسم بڑا سہانا تھا
محسن چنگیزیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں