ہیں وصل و ہجر کے آب و سراب دیکھے ہوئے




ہیں وصل و ہجر کے آب و سراب دیکھے ہوئے
کہ ہم نے دیکھے ہیں اک عمر خواب دیکھے ہوئے
کہو ہوا سے ہٹا لے یہ شامیانہ ابر
کہ دھوپ چھاؤں کے ہیں سب عذاب دیکھے ہوئے
ہم اہل حرف کو محسن اب اک زمانہ ہوا
قلم اٹھائے ہوئے اور کتا ب دیکھے ہوئے
محسن احسان ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں