آسمانوں پہ ستاروں کو سجاتا تو ہے




آسمانوں پہ ستاروں کو سجاتا تو ہے
اور مہتاب کا فانوس جلاتا تو ہے
بند آنکھوں سے بھی ہر سمت تجھے دیکھتا ہوں
سانس سینے مین جب آتی ہے تو آتا توہے
تیرے دم سے ہی سر خاک ہے انساں کا وجود
اور سر عرش بھی انساں کو بلاتا تو ہے
یہ تری شان کریمی ہے کہ ہر بندے پر
عقل و حکمت کے خزینوں کو لٹاتا تو ہے
محسن احسان ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں