سر افلاک ہے وہ ورتہہ دریا وہ ہے




سر افلاک ہے وہ ورتہہ دریا وہ ہے
ذرہ خاک سے ہر آن ہویدا وہ ہے
شبنم صبح میں وہ اور شفق شام میں وہ
کتنی شکلوں سے مری روح میں اترا وہ ہے
اس کا احساس دلاتی ہے سیاہی شب کی
نور خورشید میں ہر لمحہ دمکتا وہ ہے
سینہ سنگ میں کرمک کو بھی دے رزق مدام
یہ حقیقت ہے کہ ہر ذات کا داتا وہ ہے
نوک ہر خار پہ جب رقص میں ہو اوس کی بوند
دل پہ یہ راز کھلے ارفع و اعلیٰ وہ ہے
محسن احسان ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں