مرے وجود کے دوزخ کو سرد کرد ے گا




مرے وجود کے دوزخ کو سرد کرد ے گا
اگر وہ ابر کرم ہے تو کھل کے برسے گا
میں اس بدن میں اتر جاؤں گا نشے کی طرح
وہ ایک بار اگر مسکرا کے دیکھے گا
یہ شہر کم نظراں ہے ادھر نہ کر اانکھیں
یہاں اشارہ مژگاں کوئی نہ سمجھے گا
جو کم نہ ہوں گی دلوں کی کدورتیں محسن
توآسماں سے غضب کا فرشتہ اترے گا
محسن احسان ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں