یہ اطمینان دل کو ہے کہ ہم گھر بار رکھتے ہیں




یہ اطمینان دل کو ہے کہ ہم گھر بار رکھتے ہیں
شکستہ ہیں مگر اپنے در و دیوار رکھتے ہیں
جدا ہے مفلس و زردار سے ملنے کا پیمانہ
ہر انساں کے لیے ہم اک الگ معیار رکھتے ہیں
وہی ہیں ان دنوں مقبول تمثیل سیاست میں
جو سارے کھیل مین اک مرکزی کردار رکھتے ہیں
ہمارے ہاتھ خالی ہیں ہماری آنکھ بھوکی ہے
اگرچہ جیب میں ہم درہم و دینار رکھتے ہیں
ہمارا حال ہے محسن یہ اب اقوام عالم میں
ضمیر بے ضمیراں اور دل بیمار رکھتے ہیں
محسن احسان ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں