تیری مجبوریوں سے واقف ہوں!




تیری مجبوریوں سے واقف ہوں!
تو نے پہلے بھی کئی بار مجھے
ایسے دیکھا تھا کہ جیسے مجھے دیکھا ہی نہ ہو
ایسے سوچا تھا کہ جیسے مجھے سوچاہی نہ ہو
ایسے چھوڑا تھا مجھے راہ میں اکثر تونے،
جیسے مجھ سے کوئی رشتہ کوئی نا تاہی نہ ہو
جیسے تو نے مجھے، میں نے تجھے چاہا ہی نہ ہو
مصلحت اوڑھ کے چاہت کو چھپائے رکھا
اپنے ہر راز کو سینے سے لگائے رکھا
اور میں جو تری مجبوریوں سے واقف تھا
تجھ کو دیوی ساخیالوں میں سجائے رکھا
ہر نشانی کو تری میں نے مقدس جانا
تیرے ہر عکس کو آنکھوں میں بسائے رکھا
عاطف سعیدؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں