چمن چمن اسی رنگیں قبا کو دیکھتے ہیں




چمن چمن اسی رنگیں قبا کو دیکھتے ہیں
ہر ایک جلوے میں جلوہ نما کو دیکھتے ہیں
یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں ڈوبنے والے
تجھے خبر بھی ہے آب بقا کو دیکھتے ہیں
جو تیرے ہونٹ ہلیں تو پھوار پڑتی ہے
ترے سکوت میں شہر نوا کو دیکھتے ہیں
ترے ستم میں بھی ہم کو کرم نظر آیا
وہ اور ہوں گے جو خوئے جفا کو دیکھتے ہیں
کچھ اس میں اور ہی چاہت کا لطف ہے محسن
ہم اجنبی کی طرح آشنا کو دیکھتے ہیں
محسن بھوپالیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں