خبر کیا تھی نہ ملنے کے نئے اسباب کر دے گا




خبر کیا تھی نہ ملنے کے نئے اسباب کر دے گا
وہ کر کے خواب کا وعدہ مجھے بے خواب کر دے گا
کسی دن دیکھنا وہ آکے میری کشت ویراں پر
اچٹتی سی نظر ڈالے گا اور شاداب کر دے گا
وہ اپنا حق سمجھ کر بھول جائے گا ہر اک احساں
پھر اس رسم انا کو داخل آداب کر دے گا
محسن بھوپالیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں