نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں




نظر ملا کے ذرا دیکھ مت جھکا آنکھیں
بڑھا رہی ہیں نگاہوں کا حوصلہ آنکھیں
جو دل میں عکس ہے آنکھوں سے بھی وہ چھلکے گا
دل آئنہ ہے مگر دل کا آئنہ آنکھیں
وہ اک ستارہ تھا جانے کہاں گرا ہو گا
خلا میں ڈھونڈ رہی ہیں نہ جانے کیا آنکھیں
غم حیات نے فرصت نہ دی ٹھہرنے کی
پکارتی ہی رہی ہیں مجھے سدا آنکھیں
یہ اس کا طرز تخاطب بھی خوب ہے محسن
رکا رکا سا تبسم خفا خفا آنکھیں
محسن بھوپالیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں