زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا




زاویہ کوئی مقرر نہیں ہونے پاتا
دائمی ایک بھی منظر نہیں ہونے پایا
عمر مصروف ! کوئی لمحہ فرصت ہو عطا
میں کبھی خود کو میسر نہیں ہونے پاتا
آئے دن آتش و آہن سے گزرتا ہے مگر
دل و ہ کافر ہے کہ پتھر نہیں ہونے پاتا
فن کے کچھ اور بھی ہوتے ہیں تقاضے محسن
ہر سخن گو تو سخنور نہیں ہونے پاتا
محسن بھوپالیؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں