سانس لینا ہوا محال مجھے




سانس لینا ہوا محال مجھے
اس محبت سے اب نکال مجھے
اب میں تیری ہی ذمہ داری ہوں
کھو نہ جاؤں کہیں سنبھال مجھے
اب بہلتا نہیں میں لفظوں سے
اب نہ دینا کوئی مثال مجھے
سب کے بارے میں سوچتا ہوں مگر
خود کا رہتا نہیں خیال مجھے
جاتے جاتے وہ کس لیے پلٹا
اب ستائے گا یہ سوال مجھے
جو ترے بن گذارنا ٹھہرے
اک صدی سا ہے ایک سال مجھے
صاف کہہ دے جو تیرے دل میں ہے
ان بہانوں سے اب نہ ٹال مجھے
یاد رکھا نہ بھول پایا ہوں
ہے اسی بات کا ملال مجھے
عاطف سعیدؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں