تمہیں موسم بلاتے ہیں




تمہیں موسم بلاتے ہیں
مرے اندر بہت دن سے
کہ جیسے جنگ جاری ہے
عجب بے اختیاری ہے
میں نہ چاہوں مگر پھر بھی تمہاری شوچ رہتی ہے
ہر اک موسم کی دستک سے تمہاری سوچ رہتی ہے
ہر اک موسم کی دستک سے تمہارا عکس بنتا ہے
کبھی بارش تمہارے شبنمی لہجے میں ڈھلتی ہے
کبھی سرما کی یہ راتیں !
تمہارے سرد ہاتھوں کا دہکتا لمس لگتی ہیں
کبھی پت جھڑ !
تمہارے پاؤں سے روندے ہوئے پتوں کی آوازیں سناتا ہے
مجھے بے حد ستاتا ہے
کبھی موسم گلابوں کا !
تمہاری مسکراہٹ کے سبھی منظر جگاتا ہے
مجھے بے حد ستاتا ہے
کبھی پلکیں تمہاری ، دھوپ اوڑھے جسم و جاں پر شام کرتی ہیں
کبھی آنکھیں، مرے لکھے ہوئے مصرعوں کو اپنے نام کرتی ہیں
میں خوش ہوں یا اداسی کے کسی موسم سے لپٹا ہوں
کوئی محفل ہو تنہائی میں یا محفل میں تنہا ہوں
یا پھر اپنی لگائی آگ میں بجھ بجھ کے جلتا ہوں
مجھے محسوس ہوتا ہے
مرے اندر بہت دن سے
کہ جیسے جنگ جاری ہے
عجب بے اختیاری ہے
اور اس بے اختیاری میں
مرے جذبے، مرے الفاظ مجھ سے روٹھ جاتے ہیں
میں کچھ بھی کہہ نہیں سکتا ، میں کچھ بھی لکھ نہیں سکتا
اداسی اوڑھ لیتا ہوں
اور ان لمحوں کی مٹھی میں !
تمہاری یاد کے جگنو کہیں جب جگمگاتے ہیں
یا بیتے وقت کے سائے !
مری بے خواب آنکھوں میں کئی دیپک جلاتے ہیں
مجھے محسوس ہوتا ہے
مجھے تم کو بتانا ہے
کہ رت بدلے تو پنچھی بھی گھر وں کو لوٹ اتے ہیں
سنو جاناں ، چلے آؤ
تمہیں موسم بلاتے ہیں
عاطف سعیدؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں