تمہیں کیوں اتنی جلدی تھی




تمہیں کیوں اتنی جلدی تھی
مرے ہمدم ، مرے ساتھی
تمہیں تو یاد ہی ہوگا
وہ دن کیا خاص تھا جب تم مری ہستی میں آئی تھیں
مری بے رنگ دنیا کو تمہاری مسکراہٹ نے ہزاروں رنگ بخشے تھے
اسے کیسے سجایا تھا تمہیں تو یاد ہی ہو گا
تمہیں میں نے بتایا تھا
یہ میں خوابوں میں رہتا ہوں مگر تم اک حقیقت ہو
محبت ہی محبت ہو
پھر اس کے بعد سب موسم ، سبھی منظر تمہاری آنکھ سے دیکھے
تمہارے ساتھ جو گذرے وہی پل زندگی ٹھہرے
تمہیں تو یاد ہی ہو گا، مجھے کب یاد رہتا تھا
مجھے کیا کام کرنے ہیں
مجھے کس کس سے ملنا ہے
کہاں جانا ضروری ہے
خفا کوئی ہے کیوں مجھ سے
کسے جا کر منانا ہے
مجھے کب یاد رہتا تھا
مرا معمول تو تم تھیں
تمہی سب یاد رکھتی تھیں
میں اپنے دل کی سب باتیں فقط تم سے ہی کرتا تھا
تمہاری بھی یہ عادت تھی
تمہیں بھی یہ عادت تھی
تمہیں تو یادہی ہو گا میں اکثر تم سے کہتا تھا
ابھی اس زندگی کے ساتھ کتنے روگ لپٹے ہیں
مجھے تم سے محبت کی ذرا فرصت نہیں ملتی
ذرا وہ وقت آنے دو، ذرا فرصت ملے مجھ کو
بٹھا کر سامنے تم کو تمہیں جی بھر کے دیکھوں گا
بتاؤں گا مجھے تم سے محبت سی محبت ہے
مجھے اس دم ملی فرصت
کہ جب یہ بات سننے کو نہیں تم سامنے میرے
مری جاں تم وہاں پر ہو جہاں سے لوٹ کر واپس کبھی کوئی نہیں آتا
تمہیں کیوں اتنی جلدی تھی ؟
مرا اقرار سن لیتیں ، مرا اظہار سن لیتیں
کہ اب فرصت ہی فرصت ہے
کہ اب معمول میں میرے فقط تم سے محبت ہے
مگر یہ بھی حقیقت ہے
کہ میں تاخیر سے پہنچا ، تمہیں جانے کی جلدی تھی
عاطف سعیدؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں