راس آیا نہ ہم کو نیا راستہ




راس آیا نہ ہم کو نیا راستہ
چن لیا اب کے ہم نے تیرا راستہ
منزلوں کی طلب لے گئی دور تک
گرچہ ڈستا رہا بے وفا راستہ
بیٹھنے کب دیا زندگی نے مجھے
وقت کے ساتھ چلتا رہا راستہ
مرے اندر کا انسان مارا گیا
جب ملا مجھ کو منزل نما راستہ
پاؤں میرے جہاں کاٹ کر رکھ دیئے
اس جگہ بن گیا اک نیا راستہ
پاؤں چلنے کے قابل ہوئے تو ادھر
بند ہوتا گیا ہر کھلا راستہ
میری آوارگی کو جنوں مل گیا
جب میں چلنے لگا تھک گیا راستہ
ہم سفر کے لئے گھر سے اعظم چلے
کھو گئیں منزلیں کھو گیا راستہ
اعظم کمال ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں