میری مٹھی میں سورج آگیا ہے




میری مٹھی میں سورج آگیا ہے
مرے اندر اندھیرا چھا گیا ہے
میں خوشیاں بانٹنے نکلا ہوں گھر سے
میرے رستے میں تو کیوں آگیا ہے
میں اب سچا ئیاں لکھنے لگا ہوں
مرا ہر لفظ کیوں پتھرا گیا ہے
تیرے چہرے پہ دیکھی ہے اداسی
نہ جانے چاند کیوں گہنا گیا ہے
بچھڑنا ہے تو مجھ سے اب بچھر جا
کہ تنہا مجھ کو جینا آگیا ہے
امیر شہر اعظم آج سب کو
لہو کی در دیاں پہنا گیا ہے
اعظم کمال ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں