جو اپنی عمر سے آگے نکل رہی ہو تم




جو اپنی عمر سے آگے نکل رہی ہو تم
تمہیں خبر ہے جوانی میں ڈھل رہی ہو تم
کبھی تمہیں بھی دعویٰ تھا سرد مہری کا
کسی کے لمس کو پا کر پگھل رہی ہو تم
بتاؤ کیوں نہیں روکا تھا جانے والے کو
اب ایک عمر سے کیوں ہاتھ مل رہی ہو تم
جو والدین نے تم سے کہا وہ مان لیا
اب اپنی آگ سے چپ چاپ جل رہی ہو تم
ہمارے دل کا کھلونا تمہی نے توڑا تھا
اب اس کھلونے کی خاطر مچل رہی ہو تم
تمہیں گماں ہے کہ میں جانتا نہیں کچھ بھی
مجھے خبر ہے کہ رستہ بدل رہی ہو تم
وصی شاہؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں