شرارت !




جس کروٹ لیٹے تھے ہم تم
چاند تمہاری پیشانی کو چوم رہا تھا
دیکھو جاناں !
چاند وہاں سے ہجرت کر کے
پیروں تک آپہنچا ہے
سوجا ؤ اب
باقی باتیں کل کرلیں گے
میرا کیا ہے
لیکن چاند کو سونا ہوگا
وصی شاہ ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں