Sun Set Point




جھیل کے آخری کنارے پر
وہ جہاں شام ڈوب جاتی ہے
آخری بار آکے مل جاؤ
آخری بار جو آؤ ملنے
تم اسی رنگ کے کپڑے پہنو
جس کو اب سے کئی برسوں پہلے
پہنے آئی تھیں، یہ کہنے مجھ سے
دل کی گہرائی سے چاہت ہے تمہیں
بے پنہا مجھ سے محبت ہے تمہیں
تجھ کو معلوم نہیں ہے شاید
تیرے کپڑوں کے سبھی رنگ تو اے جان جاناں
میرے جیون کے شب ور وز میں در آئے تھے
آخری بار جو آؤ
تو اسی رنگ کے کپڑے پہنو
اور اسی ڈھنگ سے دیکھو مجھ کو
جس میں امیدیں تھیں چاؤ تھے
محبت کے جہاں بستے تھے
آخری بار جو آؤ ، وہی تحفہ لاؤ
وہ جو اس پہلی ملاقات پہ تم لائی تھیں
اپنی چاہت کا مہکتا تحفہ
نرم ہونٹوں کا دہکتا تحفہ
آخری بار کچھ اس طرح سے ملنے آؤ
کہ کہیں آنکھ میں، لب پر
کوئی ویرانی نہ ہو
میں بھی ویسے ہی ملوں گا، انہی جذبوں کو لیے
جن سے اس دل کے کبھی بندھن تھے
جو کبھی مجھ میں بہت روشن تھے
جھیل کے آخری کنارے پر
وہ جہاں شام ڈوب جاتی ہے
آخری بار جو مل کر مجھے واپس لوٹو
تو کچھ اس طرح لوٹا جاناں
کتنی ہی صدیوں کے جذبات میں آباد رہے
مرتے دم تک یہ ملاقات




اپنا تبصرہ بھیجیں