منزل قطار میں ہے شب انتطار کی




منزل قطار میں ہے شب انتطار کی
آئی نہیں ہے باری کسی بے قطار کی
نفرت کی یہ کہانی جو پھیلی ہے چار سو
میرے دیار کی ہے نہ تیرے دیار کی
ہجرت کے بعد دارو رسن تک پہن گئے
صورت نظر نہ آئی کسی غمگسار کی
میں ڈوب تو گیا ہوں مجھے ڈوبنا ہی تھا
لیکن پھر اس کے بعد ندی کس نے پار کی
آئینہ کرچیوں میں بٹا ہے تو یہ کھلا
پتھر بدست کو بھی ٖرورت ہے پیار کی
تیرو کماں بدوش جوانی کے ساتھ ساتھ
عادت جوان ہو گئی ، ہو گی شکار کی
دن رات اپنے خون میں نہانے کے باوجود
پوشاک میرے تن پہ ہے گردو غبار کی
اعظم نہال غم کے قلم کی قسم مجھے
میں لکھ نہیں سکوں گا کہانی بہار کی
اعظم کمال ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں