میں اس کا دوست ہوں وہ اعتراف کرتا تھا




میں اس کا دوست ہوں وہ اعتراف کرتا تھا
مگر وہ باتیں بھی میرے خلاف کرتا تھا
سنا ہے گر کے مرا بادلوں کی سیڑھی سے
وہ آسماں کی چھت میں شگاف کرتا تھا
کمال ہے کہ ہوا وہ بھی نذر بے خبری
جو ہم پہ روز نئے انکشاف کرتا تھا
وہ قتل ہوگیا بد صورتوں کی محفل میں
جو سارے شہر کے آئینے صاف کرتا تھا
قتیل شفائی




اپنا تبصرہ بھیجیں