مجھے آئی نہ جگ سے لاج




مجھے آئی نہ جگ سے لاج
میں اتنے زور سے ناچی آج
کہ گھنگرو ٹوٹ گئے

کچھ مجھ پہ نیا جوبن بھی تھا
کچھ پیار کا پاگل پن بھی تھا
کبھی پلک پلک مری تیر بنی
کبھی زلف مری زنجیر بنی
لیا دل ساجن کا جیت
وہ چھیڑے پائلیا نے گیت
کہ گھنگرو ٹوٹ گئے

میں بسی تھی جس کے سپنوں میں
وہ گنے گا اب مجھے اپنوں میں
کہتی ہے مری ہر انگڑائی
میں پیا کی نیند چرا لائی
میں بن کے گئی تھی چور
مگر مری پایل تھی کمزور
کہ گھنگرو ٹوٹ گئے
گھرتی پہ نہ میرے پیر لگیں
بن پیا مجھے سب غیر لگیں
مجھے رنگ ملے ارمانوں کے
مجھے پنکھ لگے پروانوں کے
جب ملا پیا کا گاؤں
تو ایسا لچکا میرا پاؤں
کہ گھنگرو ٹوٹ گئے
قتیل شفائی




اپنا تبصرہ بھیجیں