رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں




رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لئے پاؤں میں
جوبھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں
جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
اس کو دفنا ؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
وہ خدا ہے کسی ٹوٹے ہوئے دل میں ہو گا
مسجدوں مین اسے ڈھونڈو نہ کلیساؤں میں
ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
اک یہی عجیب ہے اس شہر کے داناؤں میں
قتیل شفائی




اپنا تبصرہ بھیجیں