تو نے یہ پھول جو زلفوں میں سجا رکھا ہے




تو نے یہ پھول جو زلفوں میں سجا رکھا ہے
اک دیا ہے جو اندھیروں میں جلا رکھا ہے
جیت لے جائے مجھے کوئی نصیبوں والا
زندگی نے مجھے داؤ پہ لگا رکھا ہے
امتحان اور مرے ضبط کا تم کیا لو گے ؟
میں نے دھڑکن کو بھی سینے میں چھپا رکھا ہے
دل تھا اک شعلہ مگر بیت گئے دن وہ قتیل
اب کریدو نہ اسے، راکھ میں کیا رکھا ہے
قتیل شفائی




اپنا تبصرہ بھیجیں