لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے




لاکھ پردوں میں رہوں بھید مرے کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
میں نے دیکھا ہے کہ جب میری زباں ڈولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
تیرا اصرار کہ چاہت مری بے تاب نہ ہو
واقف اس غم سے مرا حلقہ احباب نہ ہو
تو مجھے ضبط کے صحراؤں میں کیوں رولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
یہ بھی کیا بات کہ چھپ چھپ کے تجھے پیار کروں
جب کسی بات کو دنیا کی نظر تولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
میں نے اس فکر مین کاٹیں کئی راتیں کئی دن
میرے شعروں میں ترا نام نہ آئے، لیکن
جب تری سانس مری سانس میں رس گھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
تیرے جلووں کا ہے پر تو مری اک ایک غزل
تو مرے جسم کا سایا ہے تو کتر ا کے نہ چل
پردہ داری تو خود اپنا ہی بھرم کھولتی ہے
شاعری سچ بولتی ہے
قتیل شفائی




اپنا تبصرہ بھیجیں