خواب کیسے دیکھو ں گا




خواب کیسے دیکھو ں گا
آنکھ کی حویلی سے
خواب نے گرہ کھولی
خواب کا بھروسہ کیا
خواب ٹوٹ سکتا ہے
خواب ٹوٹ جائے تا
کروٹیں بدلتے ہی
اپنی رات کٹتی ہے
رات کا بھروسہ کیا
رات تو ادھاری ہے
مجھ پر قرض بھاری ہے
رات کا بھروسہ کیا
رات کے گزرتے ہی
صبح شام اچانک میں
خود سے گفتگو کر کے
اک سوال کرتا ہوں
اک جواب کی خاطر
رات کو بلانا ہے
رات کی ضرورت ہے
رات گر نہ آئی تو
خواب کیسے دیکھوں گا
خواب کے سہارے پر
میری سانس چلتی ہے
میری نبض ڈوبی تو !
خواب کیسے دیکھوں گا
اعظم کمال ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں