ان خوابوں کو روشن کر دو




ان خوابوں کو روشن کر دو
چھین لو مجھ سے میری سوچیں
میری ذہن کو بنجر کر دو
مری آنکھیں پتھر کر دو
گرچا ہو تو
مجھ کو تم دیوانہ کر دو
میرے جسم کے صحراؤں میں
پھول کھلاؤ ، موتی بھر دو
میرے اندھے جیون کو تم
اپنے پیار سے روشن کر دو
اک لمحے کو تم بھی سوچو
میرے خواب ادھورے ہیں جو
ان خوابوں کو روشن کر دو
اعظم کمال ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں