تیرے خوابوں میں کھونا چاہتا ہوں




تیرے خوابوں میں کھونا چاہتا ہوں
بہت جاگا ہوں سونا چاہتا ہوں
تیری آنکھوں سے موتی گر رہے ہیں
رگ جاں میں پرونا چاہتا ہوں
کہاں تک مصلحت سے کام لوں گا
میں کھل کر آج رونا چاہتا ہوں
اک انگار ہ اٹھا نا پڑ گیا ہے
میں بچہ ہوں کھلونا چاہتا ہوں
تیرے لکھے ہوئے ہر ایک خط کو
میں اشکوں سے بھگونا چاہتا ہوں
مری آنکھوں کی جھیلیں بھر گئی ہیں
میں اب خود کو ڈبونا چاہتا ہوں
منافق بن کے رہنا ہے جہاں میں
تیرے جیسا میں ہونا چاہتا ہوں
میں وہ مقتول ہوں جو اپنے خوں سے
کف قاتل کو دھونا چاہتا ہوں
کھلیں گے پھول آزادی کے اعظم
لہو کی فصل بونا چاہتا ہوں
اعظم کمال ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں