تم ہی بتا دو




تم ہی بتا دو
جب ہوش کا دریا بہہ نکلے
جب سوچ سہا گن ہو جائے
جب کانوں میں رس گھولے کوئل کی آواز
جب خوشبو باتیں کرتی ہے
جب چاندنی چبھنے لگتی ہے
جب بارش پاگل کر جائے
جب بوندیں جلنے لگتی ہیں
جب لمحے صدیاں بن جائیں
جب رات کے پچھلے پہر تلک
جب مرکز محور یاد کسی کی ہو جاناں
جب بستر کی شکنیں چبھنے لگتی ہیں
جب جھونکے دھو کہ دیتے ہیں
جب ہر آہٹ پر ان کا دھوکہ ہو جاناں
جب جاگتی آنکھیں خواب سے بھر جاتی ہیں
جب جذبے اندھے ہوتے ہیں
جب گونگے جذبے باتیں کرنے لگتے ہیں
جب آنکھیں بولنے لگتی ہیں
جب آنکھ اٹھے تو بات کہانی بن جائے
جب زلف کھلے تو رات کہانی بن جائے
جب لمس کسی کی کذبوں کو مہمیز کرے
جب پیٹر پہ کوئی حرف کریدے ناموں کے
جب کوئی کسی کے نام کے حرفوں سے کھیلے
جب کوئی کسی کو سوچے اور محسوس کرے
جب کوئی کسی کو سوچے اور مسکا اٹھے
جب کوئی کسی کو دیکھے اور شرما اٹھے
جب کوئی کسی کو رو کے اور خاموش رہے
جب ہونٹوں پر الفاظ لرز کر رہ جائیں
جب پہروں سوچ کے خط لکھو اور پھاڑ بھی دو
جب کوئی کہے اب پہروں نیند نہیں آتی ہے
جب کوئی کہے محسوس کمی سی ہوتی ہے
جب کوئی کہے تو اپنا خیال بھی رکھا کر
جب کوئی کہے تم مجھ کو اچھے لگتے ہو
جب سارے موسم ایک سے ہوتے ہیں
جب دنیا کی ہر چیز سہانی لگتی ہے
ان یادوں کا
ان سوچوں کا
ان لمحوں کا
ان جذبوں کا
میں سوچتا ہوں کیا نام رکھوں ۔۔۔۔۔؟
تم ہی بتا دو؟
تم ہی بتا دو ؟
اعظم کمال ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں