تجھ سے بچھڑوں تو قیامت کا سماں لگتا ہے




تجھ سے بچھڑوں تو قیامت کا سماں لگتا ہے
میرا دل تیرے سوا اور کہاں لگتا ہے
حسن دیتا ہے ستاروں کو تیرا حسن نظر
چاند کا حسن ترا زور بیاں لگتا ہے
تیرے جانے سے چلی جاتی ہے منزل میری
تیرا آنا مجھے منزل کا نشاں لگتا ہے
دن کا سورج ہو کہ مہتاب کسی رات کا ہو
تیری ہنستی ہوئی آنکھوں میں نہاں لگتا ہے
بوڑھے لگتے ہیں جنہیں پیار سے نسبت ہی نہیں
پیار کے شہر کا ہر شخص جواں لگتا ہے
ایک اعظم ہی نہیں تجھ کو سبھی دیکھتے ہیں
جان من تو تو مجھے جان جہاں لگتا ہے
اعظم کمال ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں