وقت بڑا ہر جائی ہے




وقت بڑا ہر جائی ہے
سب وقت سے ڈرتے ہیں
یہ وقت بڑا ہر جائی ہے
یہ وقت بڑا ہی ظالم ہے
تم وقت کا دامن دیکھو تو
ہر سمت لہو کے دھبے ہیں
اس وقت نے کیا کچھ دینا تھا
اس وقت نے کیا کچھ بخشا ہے
کچھ بھوک الگلتے موسم ہیں
اور ناحق مقتل سرخ لہو سے بھیگ گئے
اور وقت نے ایسے ظلم کیے
کہیں تتلی کے پرنیزوں کی خوفناب انی پر لہر آئے
کہیں چڑیا قید قفس میں ہے
کہیں شور مچا
کہیں جام چلے
کہیں آگ لگی
کہیں صحرا دھوپ سے چیخ اٹھا
کہیں رات کا آنچل بھیگ گیا
کہیں نفرت کے سرتا ل چھڑے
کہیں رنگوں کی برسات ہوئی
کہیں پربت پربت تنہائی کے پھول کھلے
کہیں شاخ سے کونپل ٹوٹ گئی
کہیں شام کو بیچا جاتا ہے
کہیں شام کو پوجا جاتا ہے
کہیں شام سے دھوکے ہوتے ہیں
کہیں شام سے کھیلا جاتا ہے
یہ ساری باتیں وقت کی ہیں
یہ وقت بڑا ہر جائی ہے
اعظم کمال ؔ




اپنا تبصرہ بھیجیں