آؤ تم ہی کرو مسیحائی




آؤ تم ہی کرو مسیحائی
اب بہلتی نہیں ہے تنہائی
تم گئے تھے تو ساتھ لے جاتے
اب یہ کس کام کی ہے بینائی
ہم کہ تھے لذت حیات میں گم
جاں سے اک موج تشنگی آئی
ہم سفر خوش نہ ہو محبت سے
جانے ہم کس کے ہوں تمنائی
کوئی دیوانہ کہتا جاتا تھا
زندگی یہ نہیں مرے بھائی
اول عشق میں خبر بھی نہ بھی
عزتیں بخشتی ہے رسوائی
کیسے پاؤ مجھے جو تم دیکھو
سطح ساحل سے میری گہرائی
جن میں ہم کھیل کر جوان ہوئے
وہی گلیاں ہوئیں تماشائی
عبید اللہ علیم




اپنا تبصرہ بھیجیں