خورشید بکف کوئی کہاں ہے




خورشید بکف کوئی کہاں ہے
سب اپنی ہی روشنی جاں ہے
میں بھی تو ادھر ہی جا رہا ہوں
مجھ کو ابھی تلاش رفتگاں ہے
پھر دیکھنا خواب عہد رفتہ
مل لو ابھی وہقت مہر باں ہے
سودا بھی کروں تو کیا کہ دنیا
باہر سے سجی ہوئی دکاں ہے
شعلے کو خبر ہی کیا، نمو میں
اپنے ہی وجود کا زیاں ہے
ہر لحظہ بدل رہی ہے دنیا
ہر پل کوئی خواب رائیگاں ہے
لیتا ہی نہین کہیں پڑاؤ
یادوں عجیب کارواں ہے
مانا کہ جدا نہیں ہیں ہم تم
پھر بھی کوئی فصل درمیاں ہے
اے ابر بہار نو برس بھی
پھر تازہ ہجوم تشنگاں ہے
اے موج فنا گزر بھی سر سے
ہونے کا مجھے بہت گماں ہے
عبید اللہ علیم




اپنا تبصرہ بھیجیں