اک مسلسل تیرگی میں روشنی کا سلسلہ




اک مسلسل تیرگی میں روشنی کا سلسلہ
تیرے جیسا کب ہے کوئی دوسرا تیرے سوا
پھونک دے پھر روح کوئی، کوئی تازہ ولولہ
بجھ رہا ہے پھر خدایا آس کا جلتا دیا
میں کہ اپنی جان کا دشمن ہوا ہوں آپ ہی
دنیا داری کے بھنور میں جا رہا ہوں ڈوبتا
تھک گیا ہوں اب مسلسل رات دن چلتے ہوئے
اب تو کوئی صورت منزل ہو پیدا اے خدا
ابرار ندیم




اپنا تبصرہ بھیجیں