جتنے چراغ ہیں




جتنے چراغ ہیں
ہوا نے سب چراغوں کو سنبھالا ہے
کسی بھولی ہوئی آواز کا جادو
کسی نکھرے ہوئے جذبے کو خوشبو
کوئی دستک کوئی آہٹ
اچانک جاگتے لمحے کی کروٹ
کسی حرف دعا کی گنگناہٹ
کسی سوکھی ہوئی ٹہنی پہ قاصد سی کوئی کونپل
کسی اجڑے ہوئے گوشے میں
آنکھیں کھولتی کلیاں
جو تو چاہے
تو ہر موسم سہانا ہر زمانہ اپنا ہوتا ہے
یہ دل جو ترا گھر ہے
یہ کبھی ویران نہیں ہوتا
مرے مولا !
ادا جعفری




اپنا تبصرہ بھیجیں