سفر باقی ہے




سفر باقی ہے
بتائیں کیا ہمارے زخم زخم کے گلاب
ماہ و آفتاب سب گواہ ہیں
کہ ہم نے کیا نہیں سہا
صوبتوں کے درمیاں
ہمارے ساتھ اک یقیں رہا
گواہ یہ زمین اور زماں رہے
نہ آج سو گوار ہیں
نہ کل ہی نوحہ خواں رہے
شرر جو کل لہو میں تھے
وہ آج بھی لہو میں ہیں
ہمارے خواب
سانس لے رہے ہیں آجھ بھی
کوئی دیا بجھا نہیں
کہ ہم ابھی تھکے نہیں
اور اک صدی سے دوسری تلک
سفر میں ہیں
ادا جعفری




اپنا تبصرہ بھیجیں