وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے




وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے
دور بسا اور ہاتھ رہا ہے
اجلی دھوپ گھنا سایا ہے
دل میں کس کے چاہ نہیں ہے
اس ساگر کی تھاہ نہیں ہے
میں تو بس اتنا ہی جانوں
جب بھی اس کا نام لیا ہے
اس نے بڑھ کر تھام لیا ہے
گیت مرے، آہنگ اس کا ہے
چنری میری رنگ اس کا ہے
ان جانی من مانی گلیوں
میرے سنگ تو سنگ اس کا ہے
ایک دیے کی لو سے میں نے
جگمگ کالی راتیں کی ہیں
پچھلے پہر کے سناٹوں نے
آکر اس کی باتیں کی ہیں
ادا جعفری




اپنا تبصرہ بھیجیں