وہ بے خبر نہ تھے




وہ بے خبر نہ تھے
وہ خواب جیسے لوگ تھے
جو حسن اور عشق کی کتاب
لکھتے لکھتے سو گئے
جو زندگی کا ز ر نگار باب
لکھتے لکھتے سو گئے
ہواؤ !
تم تو دیکھتی رہی ہو
تم کہو کہاں کھو گئے
وہ ہم میں آج کیوں نہیں
جو وادی جمال سے
کھلی ہتھیلیوں بر ہنہ سر چلے گئے
وہ بے ہنر نہ تھے
تمام بستیاں گواہ ہیں
تمام وادیاں گواہ ہیں
جو تشنگی کی دھوپ میں جھلس گئے
جو آندھیوں میں مثل کاروخس گئے
شجر تھے اور بے ثمر نہ تھے
جو پتھروں تلے کچل گئے
جو حوصلے صعوبتوں میں ڈھل گئے
جو امن اور آشتی کی آرزو میں مرگئے
گزر گئے
وہ بے بصر نہ تھے
وہ زندگی کے ترجماں تھے
اور بے خبر نہ تھے
ادا جعفری




اپنا تبصرہ بھیجیں