ذکر ان کا ابھی ہو بھی نہ پایا ہے زباں سے




ذکر ان کا ابھی ہو بھی نہ پایا ہے زباں سے
دل میں یہ اجالے اتر آئے ہیں کہاں سے
لو سانس بھی آہستہ کہ یہ جائے ادب ہے
تحریر کروں اسم نبی ہدیہ جاں سے
کرنیں سے چھٹک جائیں اسی حجرہ دل میں
تم ان کو پکاروں تو حضور دل و جاں سے
ہر دور کی امید ہیں ہر عہد کا پیماں
پہچان ہے ان کی نہ زمیں سے نہ زماں سے
ادا جعفری




اپنا تبصرہ بھیجیں