ہم آفتاب سے، ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں




ہم آفتاب سے، ڈھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں
خود اپنی آگ میں جلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں
جو سنگ ٹوٹ نہ پائے جہاں کی کوشش سے
ہمارے غم سے پگھلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں
تباہیوں پہ ہماری جو کل تلک خوش تھے
سنا ہے ہاتھ وہ ملتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں
تمہاری راہ میں آنکھیں بچھا رہے تھے کبھی
جو آج راہ بدلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں
بلندیوں پہ نہ ڈھونڈو کہ جو ہر نایاب
زمیں کی گود میں پلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں
زمانہ جیسے بہلتا ہے میری جاں ہم بھی
اسی طرح سے بہلتے ہیں کچھ خبر ہے تمہیں
ہم آب سیم کی مانند ساری رات عدیل
بنا تمہارے مچلتے ہیں، کچھ خبر ہے تمہیں
عدیل زیدی




اپنا تبصرہ بھیجیں