گھر عطا کر ، مکاں سے کیا حاصل




گھر عطا کر ، مکاں سے کیا حاصل
صرف وہم و گماں سے کیا حاصل
بے یقینی ہی بے یقینی ہے !
ایسے ارض و سماں سے کیا حاصل
آفت نا گہاں کو روکے کون ؟
دولت بیکراں سے کیا حاصل
ایک چہرہ ہے کائنات مری !
صورت دیگراں سے کیا حاصل
جب کوشی ہی نہ اپنے ساتھ رہی
دولت جسم و جاں سے کیا حاصل
اب تو دل میں نہیں کوئی خواہش
صرف خالی دکاں سے کیا حاصل
اپنے اعمال کو بھی بدلو عدیل
صرف آہ و فغاں سے کیا حاصل
عدیل زیدی




اپنا تبصرہ بھیجیں