نذر میرؔ




نذر میرؔ
نام سنتا ہوں ترا جب بھرے سنسار کے بیچ
لفظ رک جاتے ہیں آکر مری گفتار کے بیچ
دل کی باتوں میں نہ آیار کہ اس بستی میں
روز دل والے چنے جاتے ہیں دیوار کے بیچ
ایک ہی چہرہ کتابی نظر آتا ہے ہمیں
کبھی اشعار کے باہر کبھی اشعار کے بیچ
ایک دل ٹوٹا مگر کتنی نقابیں پلٹیں
جیت کے پہلو نکل آئے کئی ہار کے بیچ
کوئی محفل ہو نظر اسکی ہمیں پر ٹھہری
کبھی اپنوں میں ستایا کبھی اغیار کے بیچ
ایسے زاہد کی قیادت میاں توبہ توبہ
کبھی ایمان کی باتیں ، کبھی کفار کے بیچ
کبھی تہذیب و تمدن کا یہ مرکز تھا میاں
تم کو بستی جو نظر آتی ہے آثار کے بیچ
جس طرح ٹاٹ کا پیوند ہو مخمل میں عدیل
مغربی چال چلن مشرقی اقدار کے بیچ
عدیل زیدی




اپنا تبصرہ بھیجیں